” حریم ۔۔۔۔۔ آپی۔۔۔۔۔حریم آپی . . . . ام۔۔۔۔۔روم نمبر تھا۔۔۔ او ہاں وہ رہا روم چچی جان ۔“ ، حورعین نے بلآخر کمرہ ڈھونڈ ہی لیا ۔ اور اس کمرے کے باہر حسن کو انتظار کرتے دیکھ کر اسے لگا کے شاید پچھلے دو کمروں کی طرح یہ بھی وہ نمبر نہیں لیکن وہ یہ بھی ماننے کو تیار نہیں تھی کہ وہ کمرے کا نمبر بھول چکی ہے ۔ اتنے میں حریم بھی اسی کمرے سے باہر آگئی ۔ لیکن اس سے پہلے کہ حسن آگے جاکر اس سے کچھ کہتا ۔ روما اس کے پاس چلی گئیں اور حسن نے مناسب نہیں سمجھا تو بس اسے ایک نظر دیکھ کر پلٹ گیا لیکن حورعین کی آنکھوں نے یہ منظر نوٹ کر لیا ۔ پھر بھاگ کر اس سے لپٹ گئی ۔ ” آپی ! ،“ ” آپ نے بتایا کیوں نہیں کہ آج سوکٹ بنے گا ۔ میں ساتھ آتی آپ کے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور غفور چچا بھی تو نہیں تھے آپ کے ساتھ ۔ کیسے آئیں آپ ؟“ ، حورعین تو بس گاڑی میں بیٹھتے ہی شروع ہو گئی ۔ ” اللہ اللہ ۔۔۔۔۔ حورعین سانس تو لینے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی مجھے خود آج ہی پتا چلا ہے کہ سوکٹ آج بنے گا ۔“ ، حریم نے مسکراتے ہوے جواب دیا . ” تو پھر آپ ہسپتال کیسے گئیں ؟“ ، لیکن حورعین کے سوال ابھی ختم نہیں ہوئے تھے ۔ پہلے حریم نے سوچا کہ کیا ب...