حریم کی آنکھ کھلی تو اس وقت وہ بیڈ پر تھی ۔ ٹائم دیکھا تو ابھی مغرب میں وقت تھا ۔ وضو کے لئے باتھ روم میں آئی ۔ وہاں سنک کی اونچائی زیادہ نہیں تھی اور ساتھ میں ایک چئیر تھی جو کہ حریم کی ہی آسانی کے لئے تھی ۔ حریم اس پر بیٹھی اور اپنے پاجامہ کو پاؤں پر سے اوپر اٹھایا ۔ ایکسیڈنٹ کے باعث حریم کی ٹانگ کاٹنی پڑی تھی ۔ دایئں ٹانگ جو کہ پاوں سے 5 انچ اوپر تک کٹی ہوئی تھی ۔ حریم نے بغور اپنی ٹانگ کا جائزہ لیا ۔ اور پھر پاجامہ نیچے کر دیا ۔ وضو کر کے باہر آئی ۔ نماز پڑھی اور دعا کی لئے ہاتھ اٹھائے ،” اللہ میں نہیں جانتی میرے لئے کیا بہتر ہے ۔ آپ جانتے ہیں ۔ آپ میرے لئے وہ کر دیں جو میرے حق میں بہتر ہے ۔ اللہ میں نہیں جانتی کے اگلے کچھ دنوں میں کیا ہونے والا ہے ۔ آپ جانتے ہیں ۔ آپ please وہ کردیجئے جو میرے لئے اچھا ہو ،“ اور ساتھ ہی ایک آنسو نکل آیا ۔
” اللہ میں جانتی ہوں آپ جو کرتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے ۔ میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں بھی ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔لیکن اللہ میں اب واقعی بہت تھک گئی ہوں ۔ اللہ میری آخری امید prosthetic فوٹ ہے ۔ آپ پلیز میری اس امید کو مکمل کر دیں ۔ پلیز اللہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پلیز ۔“ اب کی بار دونوں آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے ۔ ”آمین“ ، پھر وہ اٹھی اور کپڑے بدلنے کے لیے چلی گئی کیونکہ رات میں روما چچی کی طرف ڈنر تھا ۔
***********
گلبرگ کے ایک خوبصورت سے گھر کے اخاطےمیں ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ ٹیبل پر تین چار کھانے کی ڈشز اور ساتھ میں سویٹ تھی اور بالکل درمیان میں ایک موم بتی تھی ۔ حسن نے اب کی بار مریم کو پاستہ پاس آن کیا ۔
” تھنکس۔“، مریم نے تھوڑا سا اپنی پلیٹ میں لیا ۔
” سو مما آپ کے دن کیسے گزر رہے ہیں ۔ آئی مین پاپا کے بغیر ؟“ ، حسن نے آنکھ ماری ۔
” ہاہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سچی بتاؤں حسن تو میں بہت زیادہ بور ہو جاتی ہوں اور آپ کے پاپا ہیں کہ ہر مہینے ہی کسی نا کسی کنٹری کا وزٹ کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اور اوپر سے آپ کی پوسٹنگ سے بھی شکایت ہے مجھے ، چینج ہو تی رہتی ہے ۔ بچی میں اکیلی ، ہنہ ۔“ ، مریم نے گلہ کیا ۔
” واقعی مما بات تو غلط ہے ۔“ ، حسن نے بھی تائد کر دی ۔
اس بار مریم کو لگا کہ لوہا گرم ہے ، ”بس حسن میں نے ایک فیصلہ کر لیا ہے کہ اس دفع میں آپ کے لئے لڑکی دیکھ رہی ہوں ۔“ ، اور یہ لوہے پر وار بھی کر دیا ۔ حسن نے گڑبڑا کر ان کی طرف دیکھا ۔
” ایک منٹ۔۔۔۔۔۔ایک منٹ۔۔۔ لڑکی ،“ اور اپنی شہادت کی انگلی اپنی طرف کی ،” میرے لئے “، مریم نے محظوظ ہوتے ہوے اثبات میں سر ہلا دیا ، ”وہ کس لیے ؟“
” آپ کی شادی کے لئے بیٹا اور کس لئے ۔“
” یعنی کہ پاپا یہاں نہیں ہوتے اور ان کی وجہ ،“ مریم نے حسن کی جانب اشارہ کیا، ”اور ہاں ہاں میری وجہ سے آپ یہاں اکیلی بور ہوتی ہیں تو اس میں میری شادی کہاں سے آگی بیچ میں ۔“
حسن کونفو ز ہوا ۔
” توبہ ہے حسن بیٹا آپ کی وائف آئیں گی تو ہی میں تھوڑی مصروف ہوں گی نہ ۔“
” تو آپ پاپا کے ساتھ بھی گھوم پھر کر مصروف رہ سکتی ہیں ۔“ ، اپنی طرف سے حسن نے بہت اچھا مشورہ دیا ۔
” حسن آپ کو پتا بھی ہے کہ مجھے ان کا سرکل بہت بورنگ لگتا ہے ۔ اور ویسے بھی آپ اب نہیں تو پھر کب کریں گے شادی ۔“ ، مریم نے ہر ممکن کوشش کرنا چاہی ۔
”مما اس کا مطلب ہے کہ آپ لڑکی دیکھ چکی ہیں۔“
”دیکھی ہے یا نہیں ابھی کنفرم نہیں ہے لیکن کم از کم وہ ڈاکٹر نہیں ہو گی ۔“ ، مریم نے جھرجھری لی ۔ ” ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر نہیں تو کیا آپ کی پیشنٹ ہو گی۔“ ، جسن کی زبان پھسلی ۔ وہ صبح سے لاشعوری طور پر حریم کو سوچ رہا تھا ۔
” ویسے حسن آیڈیا برا نہیں ہے ۔“ ، دونوں کا ذہن ایک ہی لڑکی کو سوچ رہا تھا ۔ حسن نے جب ان کی معنی خیز مسکراہٹ کے پیچھے کا مطلب جانا تو کہا ، ” نو وے مما ۔ آپ کو پتا ہے آج مس حریم کی ہلپ کرنے کی کوشش کی میں نے ۔ اینڈ شی واز لایک ۔ ۔ اف ۔ ۔ ۔ ۔ اتنا غصہ ۔ ۔ ۔ ۔“
” لیکن مجھے تو وہ بہت سویٹ سی لگی ۔ شی از آ نایس گرل حسن ۔ اور ویسے بھی میں نے تو عام بات کی تھی نہ کے حریم کی ۔“ ، مریم ہنسنے لگیں ۔ اور حسن صحیح معنوں میں کنفیوز ہو گیا ۔
” مما میرا مطلب تھا۔۔۔۔۔۔ “ ، مریم نے حسن کی بات کاٹی اور کہا ، ” حسن فار می فرسٹ امپریشن از ناٹ دا لاسٹ ون ۔“ ، مریم نے اپنے بیٹے کی سرزنش کی۔
” جی ٹھیک مما ۔ آپ سویٹ لیں نا ۔“ ، باقی ڈنر خاموشی سے کیا گیا ۔
*************
”مما ! “ ، حسن نے صبح صبح ہی دروازہ ناک کیا اس وقت مریم ہسپتال جانے کیلیے تیار ہو رہی تھیں ۔
” جی حسن ۔ حیریت ؟“، حسن اس وقت بہت ہی خوشگوار موڈ میں بلیک پینٹ پر سفید شرٹ پہنے ہوے تھا ۔
” بالکل حیریت ہے ۔ آپ بتائیں کہ مس حریم کا ساکٹ کب بنایئں گی آپ ؟“،
مریم مسکرا دیں ۔ ” آپ کہو تو آج ہی بنا دوں ۔“
” سو سویٹ ! چلیں پھر میں اسے پک کر کے ہاسپیٹل لے آوں گا ۔ کوئی پرابلم تو نہیں نا ۔“ ، حسن بے اتنی صبح آنے کا مقصد بتایا ۔
” آپ کو پتا ہے وہ کہاں ہیں ؟“، مریم نے پوچھا ۔
” مما کیپٹن حسن کیلیے کچھ پتا کروانا مشکل نہیں ہے ۔ شی از آ لیکچرآر ان پرائیوٹ کالج ۔ اینڈ شی ول بی فری ٹل 12 ۔“ ، حسن نے دل جیت لینے والی مسکراہٹ سے جواب دیا ۔
” حسن مجھے نہ دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے ۔“ ، مریم نے مسکراہٹ دبا کر کہا تو حسن جھینپ گیا ۔
” وہ کیا ہے مما میں نے سوچا کہ جو لڑکی میری مما کو اتنی سویٹ لگی ہے مجھے اس کے متعلق رائے بدل لینی چاہئیے ۔ کیوں صحیح کہا نہ ؟“
” ہاہاہاہا ۔ ۔ ۔ ۔ بالکل صحیح کہا ۔“ مریم نے پہلی مرتبہ اپنے بیٹے کو کسی لڑکی کو پک کرتے خوشی کا اظہار کرتے ہوے دیکھا تو وہ بھی مطمئن ہو گئیں کہ شاید اب اسے کوئی لڑکی پسند آ جائے اور اگر وہ لڑکی حریم ہے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔
”مما اگر اس نے آپ کو کال کی تو سنبھال لیجیے گا۔“ ، یہ کہہ کر حسن باہر چلا گیا ۔
پیچھے سے مریم بھی ہاسپٹل کیلیے نکل گئیں ۔
****************
حسن دس منٹ پہلے ہی کالج پہنچ گیا ۔ وہاں کے پرنسپل اس کے ایک دوست کے والد تھے انہوں نے کالج کے اندر جانے کی اجازت دے دی ۔ وہ مطلوبہ کلاس کی جانب جا رہا تھا اور اس نے محسوس کیا کہ بہت سی ٹیچرز اور سٹوڈنٹس بھی مُڑمُڑ کر اسے دیکھ رہی ہیں ۔ خیر یہ کوئی نئی بات تو تھی نہیں ایسا ہمیشہ ہی ہوتا تھا لیکن آج حسن کو اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔ ایک جگہ رک کر اس نے دو فی میل ٹیچرز سے پوچھا ،” ایکسکیوز می ! کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ مس حریم کی کلاس کس طرف ہے ؟“ ، وہ دونوں جو مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھیں اس سوال پر لہجہ سرد ہو گیا اور پوچھا ۔
” کالج میں دو حریم ہیں آپ کس کا پوچھ رہے ہیں؟“ ، حسن نے ذہن پر دُباؤ ڈال کر یاد کرنے کی کوشش کی ۔
” آفندی ۔ ۔ ۔ ۔ جی حریم آفندی کی کلاس کس طرف ہے ؟ “ ، ان میں سے ایک کا تو باقاعدہ منہ بن گیا اور رکھائی سے بولی ،” وہ ہی جن کا پاوں ایکسیڈنٹ میں کٹ گیا ۔“ ، حسن کو اس ٹیچر کا انداز بہت برا لگا تو کہا ، ”جی وہی جن کو جلد ہی ان کا پروستھیٹک فٹ مل جاے گا اور اسی سلسلے میں میں ان کو لینے آیا ہوں اور چند ہی دنوں میں وہ اپنے دونوں پاؤں پر کھڑی ہو جایئیں گی ۔ با لکل آپ کی طرح ـ“ ، ان کو حسن کا لہجہ پسند نہیں آیا تو بس راستہ بتا دینے پر ہی اکتفا کیا ۔
حسن بھی بتائے ہوئے راستے کی جانب چل دیا ۔ جب اسے مطلوبہ کلاس نظر آئی تو اتنے میں چھٹی کیلیے بیل ہو گئ ۔ اس نے باہر ہی انتظار کرنے کو ترجیح دی ۔
حریم کی بیساکھی کی آواز پر وہ متوجہ ہوا اور اسے دیکھا ۔ آج اس نے بلیک ڈریس پہن رکھا تھا اور ساتھ میں بلیک ہی سکارف ۔ حسن آگے برھنے ہی لگا تھا کہ اتنے میں کلاس میں سے ایک لڑکا باہر آیا اور حریم کو آواز دے کر روکا ۔
” میم ! “
” جی مراد !“
حریم کی پشت حسن کی جانب تھی لیکن حسن ان دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سن سکتا تھا ۔ ”میم مجھے ایک بات پوچھنی تھی ۔“
” جی پوچھیں ۔“
” میم ایک آدمی کس طرح اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کے لیے نکل سکتا ہے ؟ انسان کے لیے اس کی جان ہی تو سب کچھ ہوتی ہے ۔ وہ کیسے شہید ہونے کی خواہش کر سکتا ہے ؟ آپ کہتی ہیں کہ جوان بخوشی اپنی زندگی قربان کرتا ہے ۔ کیسے ؟“ ،
حسن بھی چونکہ ایک سپاہی تھا محافظ تھا اس لئے حریم کا جواب سننے کیلئے متوجہ ہو گیا ۔
” مراد آپ کالج اپنی پرسنل کار میں آتے ہیں رائیٹ ؟“ ، مریم نے مسکرا کر سوال کیا . نہ صرف مراد بلکہ حسن بھی اس سوال پر حیران ہوا ۔
” یس میم ۔ میں اپنی کار میں آتا ہوں ۔ “
” ہم۔۔م۔۔م اور آجکل بارشوں کا سیزن بھی ہے ۔“
” جی میم ہے ۔“
” اچھا مراد کبھی آپ نے راستے میں جب پانی کھڑا ہوجائے تو دیکھا ہو گا کہ لوگوں کو گزرنے میں تکلیف ہوتی ہے ۔“ ، حریم نے دوبارہ سوال کیا ۔
” یس میم ایک دو جگہیں ہیں ایسی ۔“
” تو کیا کبھی آپ نے اپنے تھوڑے سے وقت کی قربانی دی اور وہاں راستہ ہموار کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے ایک دو اینٹیں اٹھا کر رکھ دیں جس سے وہاں سے گزرنے والوں کیلیے آسانی ہو ۔ کبھی کیا آپ نے ؟“
” نو میم “ ، مراد نے شرمندہ ہوتے ہوئے جواب دیا ۔
” ارے میرا مطلب بالکل بھی آپ کو شرمندہ کرنا نہیں تھا ۔ بلکہ یہ کہنا تھا کہ آپ اب اپنے ملک کے لوگوں کیلیے اپنے وقت کی قربانی دیں ۔ تو آپ کو پتا چل جائے گا کہ کس طرح ایک جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کیلیے نکلتا ہے ۔“ ، جب حریم نے جواب دیا تو حسن بخوبی اس کا مطلب سمجھ گیا کیونکہ وہ خود ایک رکھوالا تھا ۔ لیکن مراد کو سمجھ نہیں آئی تو اس نے دوبارہ پوچھا ۔
” میم میں سمجھا نہیں ۔ ایک اینٹ رکھ دینے سے مجھے کیسے معلوم ہو گا ۔“
اب کی بار حریم کے جواب دینے سے پہلے حسن بول پڑا ، ” بھئی مراد ! یہاں بات اینٹ رکھنے کی نہیں اپنا تھوڑا سا وقت قربان کرنےکی ہے ۔ جب آپ یہ چھوٹی سی قربانی دیں گے تو ہی ہماری قربانیوں کو سمجھ سکیں گے ۔“ ، حریم اور مراد نے حیرت سے اسے دیکھا جو کہ مراد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اس کو سمجھا رہا تھا ۔
مراد کی سوالیہ نظروں کا جواب دیتے ہوے حسن نے اپنا تعارف کرایا ،” آئی ایم کیپٹن حسن ۔ آپ کی میم کی ڈاکٹر کا بیٹا ۔“ ، جواب پا کر مراد وہاں سے چلا گیا تو حسن حریم کی طرف مڑا ۔
”حسن۔۔۔۔۔۔آئی مین کیپٹن حسن۔۔۔۔۔آپ یہاں؟“ ، حریم پر تو جیسے حیرت کا پہاڑ ٹوٹ گیا ـ
” ام۔۔۔م۔۔م وہ دراصل مجھے مما۔۔۔۔۔ام۔۔م۔۔م ڈاکٹر مریم نے بھیجا ہے ۔وہ کہہ رہی تھیں کہ آج آپ کا ساکٹ بنایا جائے گا ۔“ ، حسن نے دائیں ہاتھ سے سر کی پشت سہلاتے ہوئے ہوئے کہا ۔
” اور میں جا کے آپ کو لے آؤں ، ایسا انہوں نے کہا۔“ ، اب کی بار معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ۔
” لیکن ڈاکٹر مریم نے تو ایسا کچھ نہیں کہا تھا ۔“ حریم نے حیرت کا اظہار کیا ۔
” دراصل کاسٹنگ کیلئے وہ ریڈی تھیں اس لیے مجھے بھیج دیا ۔“ حسن مے جیسے اپنی صفائی دی ۔
” میں ڈاکٹر کو کال کر کے کنفرم کر لوں ۔“
10 منٹ بعد حریم حسن کی گاڑی میں اس کے ساتھ تھی ۔ حسن ابھی تک حیران تھا کہ معاملہ صرف دس منٹ میں حل ہو گیا ہے ۔
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی جسے حسن نے توڑنے کی کوشش کی ۔
"” تو مس آفندی ! “ ، حریم نے بات کاٹی، ”حریم۔۔۔ آپ مجھے صرف حریم کہ سکتے ہیں ۔“
( یہی تو میں کہلوانا چاہ رہا تھا ) حسن نے سوچا حریم نے بات جاری رکھی ، ” اور ایک اور بات ۔ مجھے اپنے اس دن ہاسپیٹل والے رویے کیلیے سوری کہنا ہے ۔ میں اس وقت زیادہ انتظار کرنے کی وجہ سے غصے میں آ گئی تھی ۔ آئی ایم سوری ۔“
اور دوسری جانب حسن پر تو غیر معمولی خوشی طاری ہو گئی ۔ بہت مشکل سے اپنے جزبات پر قابو پا کر بول پایا ،” نہیں اٹس اوکے میں نے ماینڈ نہیں کیا۔“ ، خاموشی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حریم آس پاس گزرنے والے لوگوں کو دیکھنے لگ گئی جبکہ حسن یہ سوچنے کہ اب کیا کہنا ہے کیونکہ یہ لڑکی اس پر ایک کے بعد ایک حیرت انگیز انکشاف کر رہی تھی ۔ کچھ دیر بعد حریم کی نظر حسن کے بازو پر پڑی ۔ شرٹ کے بازو ہاف فولڈ تھے اور کلائی میں راڈو کی گھڑی تھی ۔ حریم نے ہمت کر کے بات شروع کی ۔
” کیپٹن حسن ایک بات پوچھ سکتی ہوں ؟“، حسن نے سر کو اثبات میں ہلا دیا ۔
" کیپٹن حسن۔۔۔۔۔ “، حسن نے بات کاٹتے ہوے کہا ، ”حسن۔۔۔۔آپ مجھے حسن کہہ سکتی ہیں ۔“، حریم جھیینپ گئی ۔
” جی تو حسن آپ آرمی میں کیوں ہیں ؟“ ، حسن نے قدرے حیرت سے اسے دیکھا کیونکہ اس کے تو فرشتے بھی اس سوال کو ایکسپیکٹ نہیں کر رہے تھے ۔ حریم نے اس کی طرف سے خاموشی کو محسوس کرتے ہوے دوبارہ سوال کیا ۔
” میرا مطلب تھا کہ کیا یہ آپ کا فیصلہ تھا یا اس
لیے کہ آپ کے پیرنٹس آرمی میں ہیں اور آپ کو آرمی جوائن کرنے کیلیے فورس کیا گیا ہے ؟“، اب کی بار حریم نے سوال آسان کر دیا ۔
” نہیں حریم آرمی جوائن کرنا میرا فیصلہ اور میری ترجیح تھی ۔ آج سے پانچ سال پہلے مجھے آرمی یا بزنس میں سے ایک کو چننا تھا ۔ اور میں نے آرمی کو چنا۔“
” کوئی خاص وجہ ؟“
” میں اگر وجہ بتانے پر آیا تو وضاحت کرتے ہوے رات ہو جائے گی مس حریم اور میں اپنے جزبات کوالفاظ کا روپ تو دے ہی نہیں سکتا مختصر کہہ سکتے ہیں کہ مجھے آرمی سے محبت ہے ، مجھے اس ملک سے محبت ہے۔۔۔۔۔۔ مجھے آزادی سے محبے ہے ۔“ اور وہ گہری سانس لے کر خاموش ہو گیا ۔ حریم کو بھی اس کا جواب مل گیا تو چپ رہی ۔
” تو ہم کہہ سکتے ہیں حریم کہ چند دنوں میں آپ اپنی سٹیک سے پیچھا چھڑوا لیں گی ۔“ ، حسن نے گاڑی موڑتے ہوئے کہا۔
” شاید “ ، بغیر کسی تاثر کے جواب دیا گیا ۔
” کیوں آپ کو میری مما کی قابلیت پر شک ہے کیا ؟“ حسن نے بات کو مزاح کا رُخ دینا چاہا ۔
” مما کا خواب تھا کہ وہ آرمی ڈاکٹر بنیں اور جب ان کا خواب پورا ہوا تو اپنے کام سے سنسیئر ہیں اور آج ان کی کامیابیوں کی تعریفیں تو سینئر ڈاکٹرز بھی کرتے ہیں ۔“ حسن کو واقعی اپنی مما پر رشک تھا ۔ اور حریم یہ سوچ کر رہ گئی کہ اس نے بھی تو یہ خواب ہی تھا ، پھر بولی ـ
” نہیں ایسی بات بالکل بھی نہیں ہے کہ مجھے ڈاکٹر مریم کی قابلیت پر شک ہے ۔ میں بس اب اپنی زندگی میں کسی بھی چیز کو احتتام نہیں مانتی میرے ساتھ اتنے مِسحیپس ہو چکے ہیں کہ میں خود کو ہر طرح کے حالات کیلیے پہلے سے ہی تیار رکھتی ہوں ۔ مجھے اگر یہ امید ہے کہ ان سٹیکس سے جان چھڑوا لوں گی تو ایک طرف میں خود کو ساری زندگی ان کے ساتھ گزارنے پر بھی مطمئن کر چکی ہوں ۔“
اور حسن دل میں اس کیلیے شدت سے دعا کر بیٹھا کہ اس کی مثبت سوچ سچ ثابت ہو جائے ۔ وہ اسے امید دلانا چاہتا تھا کہ سب ٹھیک ہو جائے گاوہ اپنے ذہن میں الفاظ ترتیب دے رہا تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا ہسپتال آگیا ۔
” شکریہ حسن ۔ آپ اچھے انسان ہیں ۔“ ، یہ کہہ کر وہ گاڑی سے اتری اور اندر چلی گئی ۔
⭐⭐⭐⭐⭐
Comments
Post a Comment