Skip to main content

ایک خواب قسط نمبر3



”کیسی ہیں آپ حریم ؟“، ڈاکٹر مریم بہت گرم جوشی سے ملیں ، ویسے بھی حسن کی طرف سے ان کو جو بات محسوس ہوئی اس کے بعد حریم اور بھی پیاری لگی ۔
”میں ٹھیک ہوں ڈاکٹر ۔ ام۔۔م۔۔آپ کو کپٹن حسن کو بھیجنے کی زحمت نہیں کرنی چاہئیے تھی۔ مجھے کال کر دیتیں میں خود آجاتی ۔“ ، حریم نے قدرے جھجھک سے کہا ۔
” نہیں حریم زحمت والی بات نہیں تھی دراصل اچانک ہی یہاں پر تیاری مکمل ہو گئی اور حسن میرے پاس ہی تھا آجکل فارغ ہے نا وہ ، اس لئے میں نے اسے بھجوا کر آپ کو بلوا لیا ۔“ ، حریم اس کے جواب میں صرف سر جھکا گئی ۔
” چلیں پھر شروع کرتے ہیں ۔“ ، ڈاکٹر مریم نے ہاتھ سے اشارہ کر کے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا ۔
” جی ـ“ ، اور حریم اپنی سٹیک کو سنبھال کر ان کے پیچھے چل دی ۔
*******
”چچی جان ! چچی جان ! کہاں ہیں آپ ؟ “، حورعین پورے گھر میں ان کو ڈھونڈ رہی تھی اور وہ ان کو باہر لان میں ملیں ۔
”چچی جان !“
” کیا بات ہے حورعین ؟“
”چچی جان گڈ نیوز ہے ! “
” اچھا مطلب ہماری حورعین اس بار پھر فرسٹ آئی ہے ۔“
” ارے نہیں نہیں ، اس بار اس سے بھی اچھی خبر ہے۔“ ، حورعین نے جوش میں آکر کہا ۔
” اور وہ ہے۔۔۔۔۔۔؟“ ، روما نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا تاکہ حورعین اسے پورا کرے ۔
” چچی جان حریم آپی آج ڈاکٹر کے پاس گئی ہیں ۔ آج ان کی ٹانگ کے ماڈل کی کاسٹنگ ہو گی ۔“ حورعین کی اپنی بہن کیلیے محبت انگ انگ سے ظاہر ہو رہی تھی ۔
” اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے ۔ مطلب میں آج کھانے پر اچھا سا انتظام کرتی ہوں ۔ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ابھی تمہارے چچا جان اور ابو جان کو بھی بتانا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔ اور حریم کہاں ہے ؟۔۔۔۔۔۔ ارے ہاں وہ تو ڈاکٹر کے پاس ہے۔۔۔۔۔۔۔اس سے ٹایم پوچھ لینا کب فارغ ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک تو بتایا بھی نہیں اس لڑکی نے۔۔۔۔۔“ ، روما جو کہ فرطِ جزبات میں کھڑی ہو گئی تھیں ان کو حورعین نے شانوں سے پکڑ کر گلے لگا لیا اور رونا شروع کر دیا ۔
اسے یوں دیکھ کر روما تو ششدر سی ہو گئیں پھر اپنی آنکھ میں آنے والے آنسووں کو صاف کیا اور کہا، ” حورعین ادھر دیکھو میری طرف ۔“ ، بہت محبت سے اسے الگ کیا اس کے آنسو صاف کیے اور کہا ، ”یہ آنسو اب حریم کے سامنے نہیں آئیں گے ۔ ٹھیک حریم کے سامنے خود کو بہت مضبوط ظاہر کرنا ہے اور میں جانتی ہوں آپ بہت سٹرانگ ہو ۔ اب جلدی سے اندر جاکے تو لسٹ بنا دو کہ آج کیا کیا بناؤں میں اپنی دونوں بیٹیوں کے لیے ۔“ ، حورعین نے اپنے آنسو صاف کیے اور سر کو اثبات میں ہلاتی اندر چلی گئی ۔
روما پیچھے سے دل ہی دل میں ان دونوں بہنوں کی ہمت کو داد دیتی رہیں ۔ دو سال قبل جب حریم کا ایکسیڈنٹ ہوا تو اس نے صاف منع کر دیا کہ ڈاکٹر کے پاس وہ اکیلی جایا کرے گی ۔ اس نے ایکسیڈنٹ کے بارے میں بات کرنا چھوڑ دیا ہوا تھا ۔ اور چپ سی ہو گئی تھی ۔ حورعین اس کے سامنے تو کبھی نہیں روئی بس جب زیادہ دل بھر جاتا تو روما کے سامنے دل ہلکا کر لیتی ۔
*********
ڈاکٹر مریم حریم کو لے کر ایک علیحدہ کمرے کی جانب چل دیں ۔ اس کمرے میں ایک طرف بڑی سی میز تھی جس پر جو سامان تھا کم از کم حریم اس سے ناواقف تھی ۔ پھر ساتھ ہی ایک بڑے سے جار میں سفید رنگ کا مایا تھا جو پوچھنے پر پلاسٹر آف پیرس معلوم ہوا ۔ کمرے کے بلکل وسط میں ایک کرسی تھی اور اس کے بالکل سامنے ایک سٹول ۔ ڈاکٹر مریم نے حریم سے بیٹھنے کو کہا تو اسے اتنا تو اس کی چھٹی حس نے بتا ہی دیا کہ چیر اس کیلیے ہے اور سٹول ڈاکٹر کے لیے ۔ لہذا چپ چاپ وہاں بیٹھ گئی ۔
”حریم اب آپ کو نہایت تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے ، کیونکہ کام وقت طلب ہے اور اگر کبھی ایسا لگے کہ میں نےآپ کی ٹانگ پر پریشر آپ کی برداشت سے زیادہ ڈال دیا ہے تو بتا دیجئے گا ۔“
” جی ضرور ! “ ، اور حریم کے چہرے سے واضح خوشی کے آثار جھلک رہے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ اگر وہ اس وقت ڈاکٹر کے سامنے نہ ہوتی تو شاید خوشی سے بھنگڑے ڈال رہی ہوتی ۔
” آپ خوش ہیں ؟“
”بہت زیادہ ۔ میں خوش سے زیادہ پرجوش ہوں ۔“ حریم کی خوشی نہ صرف ہونٹوں سے بلکہ آنکھوں سے بھی عیاں تھی ۔
ڈاکٹر مریم نے حریم کی ٹانگ کو ایک چھوٹے ٹیبل پر رکھا اور اس کے سامنے آکر بیٹھ گئیں ۔ سب سے پہلے انہوں نے حریم کی گھٹنوں تک عریاں ٹانگ پر ایک Ointetment لگایا پھر ایک liner چڑھا دیا ۔
حریم نے کتنی ہی بار ان سے ان کے خواب کے بارے میں پوچھنا چاہا لیکن کچھ سوچ کر ہونٹوں کو دانتوں میں دبا گئی ۔ ڈاکٹر مریم نے اسے نوٹ کیا تو کہا ۔
”حریم آپ جو پوچھنا رہی ہیں پوچھ لیں ۔“
”حسن۔۔۔۔۔ آئی مین کیپٹن حسن کہہ رہے تھے کہ آرمی ڈاکٹر بننا آپ کا خواب تھا ۔“ ،حریم نے آسانی سے پوچھ لیا ۔
” اوہ۔۔۔۔۔۔اچھا تو حسن نے ایسا بتایا آپ کو ۔“
” یہ غلط ہے کیا ؟ “ ، حریم نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا ۔
” نہیں غلط تو نہیں ہے۔“ ( میں حسن سے ایکسپیکٹ نہیں کر رہی تھی کہ وہ آپ سے اس موضوع پر بات کرے گا ) یہ وہ صرف سوچ سکیں ۔
” ہاں ، میرا خواب تھا آرمی جوائن کرنے کا ۔ ایز این آرتھوپیڈک سرجن اور اس سفر کے دوران خواب اور محبت دونوں ہی مل گئے ، زندگی کبھی کبھار بن مانگے بہت کچھ دے دیتی ہے ۔“ ڈاکٹر مریم نے خوش ہو کر بتایا ۔
” آپ کا بھی کوئی خواب ہے کیا حریم ؟ “ ، حریم کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر انہوں نے پوچھا ۔
” جی ۔ میرا خواب آرمی ہے ۔“ ، حریم نے خوش ہو کر بتایا ۔ لیکن ڈاکٹر مریم کے چہرے پر غم کے آثار نمایاں ہو گئے ۔ اب انہوں نے ایک پلاسٹک سے حریم کی ٹانگ کو کور کیا ۔
حریم نے ان کے چہرے کو دیکھا تو سمجھ گئی کہ وہ اس لیے اداس ہیں کیونکہ وہ بھی یہ سوچ رہی ہوں گی کہ حریم اب اپنا خواب پورا نہیں کر سکتی ۔
” ڈاکٹر مریم یہ بات سچ ہے کہ میں بضاطِ خود آرمی جوائن نہیں کر سکتی لیکن میرا خواب آرمی ہے ۔ آرمی جوائن کرنا نہیں ، ہاں پہلے میرا جنون تھا یہ لیکن مجھے بدلنا پڑا ، زندگی کبھی کبھار بن بتائے بہت کچھ چھین بھی لیتی ہے ۔“ ڈاکٹر مریم نے افسوس اور نا سمجھی کے ملے جذبات سے اسے دیکھا تو حریم نے ان کی آسانی کیلیے بتانا شروع کیا ۔ اب ڈاکٹر اس کی ٹانگ پر Nylon کی شیٹ لگا رہی تھیں ۔
” جب میں نے میں انٹر میں اپنے کالج میں سب سے زیادہ نمبر لیے تو شاید مغرور ہو گئی تھی ۔ مجھے لگا میں بہت آسانی سے اینٹری ٹیسٹ کلیر کر جاؤں گی ۔ لیکن اللہ کے علاوہ تو تکبر کسی کو سوٹ نہیں کرتا نا۔۔۔ “ ، انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
” بس پھر اللہ نے کہا کہ اے میری بندی تیرے رب کے علاوہ تکبر کسی کیلیے نہیں ہے ۔“ ، بتاتے ہوئے حریم کے چہرے پر نہایت خوبصورت مسکراہٹ تھی ۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ اس سب کے باوجود جو اس پر گزر چکا ہے دکھی ہے ۔
” ڈاکٹر مریم آپ اپنے نام کی وجہ سے میرے دل کے بہت قریب ہیں ۔ کیونکہ میری سب سے پسندیدہ ٹیچڑ کا نام بھی مریم ہے ۔ میں جب بھی زندگی سے مایوس ہوئی انہوں نے سنبھال لیا ۔ میں جب فرسٹ ٹایم انٹری ٹیسٹ کلیر نہیں کر پائی ، تو انہوں نے کہا 'حریم خواب کو وسیع ہونا چاہیے ۔ اگر آپ ایز ڈاکٹر نہیں تو ایز آفیسر اپلائی کریں ۔' تو پھر میں نے راہ بدلی اور منزل کی جستجو میں لگ گئی ۔“
اب انہوں نے nylon کی شیٹ کو اینڈ سے موڑا اور دوبارہ سے اسے ٹانگ کے اوپر چڑھا دیا ۔ اس سے حریم کی ٹانگ تقریبا اپنی پہلے جتنی جسامت میں آگئی تھی ۔ جو کہ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے تھوڑی پتلی لگتی تھی ۔
” میں نے بی ۔ ایس ۔ میں داخلہ لے لیا کیونکہ لڑکیاں bs کے بعد ہی آرمی کے لئے اپپلائے کر سکتی ہیں ۔ اور پھر میرا دل کیا کے ایک مرتبہ پھر سے آرمی ڈاکٹر کیلے ٹیسٹ دوں ۔ لیکن ڈاکٹر ! جو قسمت میں نہیں ہوتا نہ وہ لاکھ کوشش کے باوجود بھی نہیں ملتا ۔ انٹری ٹیسٹ والے دن میری امی جان ہمیں چھوڑ کر چلیں گئی ۔“ ، ساری بات بتاتے ہوے پہلی مرتبہ حریم کی آواز میں درد تھا ۔
” آئی ایم سو سوری حریم ۔ آئی رئیلی ایم ۔“، ڈاکٹر مریم نے نہایت آرام سے اس کی صحیح والی ٹانگ پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور اٹھ کھڑی ہویں ۔ اب جب وہ واپس آئیں تو ان کے پاس کچھ الاسٹک شیٹس اور پلاسٹر آف پیرس تھا ۔
” اس دن موسم بہت اچھا تھا ڈاکٹر۔۔۔۔“ ، حریم نے خیالوں میں کھوئے ہوئے کہا . ڈاکٹر مریم نے شیٹس کو پلاسٹر آف پیرس میں ڈپ کیا اور Nylon پر رکھ دیا ۔
” مجھے اچھی طرح یاد ہے کیونکہ اس دن ہماری یونیورسٹی میں تقریری مقابلا تھا ۔ میں فرسٹ آئی تھی ۔“ ،حریم نے سوچتے ہوے ذہن پر زور ڈالا اور کہا، ” موضوع تھا ' مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے' اور مجھے خود بھی ذاتی طور پر اپنی وہ تقریر بہت پسند آئی تھی . وہ تقریر میری دو ہفتوں کی محنت تھی . جب محنت کا پھل ملتا ہے تو خوشی ہوتی ہے نا ڈاکٹر ۔“
ڈاکٹر مریم نے مسکرا کر اس کی ہاں میں ہاں ملائی ۔ اور ایک اور شیٹ کو ڈپ کر کے حریم کی ٹانگ پر رکھ دیا ۔
” میں جب ٹرافی اور سرٹیفیکیٹ لے کر گیٹ تک پہنچی تو معلوم ہوا کہ آج غفور چچا نہیں آسکیں گے . لیکن میں اتنا خوش تھی اور موسم بھی بہت اچھا تھا تو سوچا تھوڑا سا ہی راستہ ہے خود چلی جاوں گی ۔۔۔ “ ، حریم رک گئی اور ڈاکٹر مریم کا ہاتھ اس کی ٹانگ پر رک گیا ۔
” وہ ایک آرمی کی گاڑی تھی ، جسے تاحد نگاہ دیکھنا میں اپنا فرض سمجھتی تھی ( ساتھ میں حریم مسکرا دی ) میں اس بات کو بھلا کر کہ میں مین روڈ پر ہوں رک کر اس گاڑی کو دیکھنے لگ گئی ۔ اور اسی وقت بالکل پاس سے ایک بائیک گزری جس سے ٹکرانے کی وجہ سے میں روڈ پر گر گئی۔۔۔۔۔ ایک پل کو لگا دنیا ختم ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن نہیں ابھی دنیا ختم نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی وقت ایک ٹرک گزرا پاس سے اور پھر لگا اب دنیا ختم ہونے والی ہے . وہ ٹرک میرے پاوں پر سے گزرا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“، ڈاکٹر مریم نے مزید ایک شیٹ ڈپ کر کے لگائی ۔
” میری آنکھ کھلی تو میں ہسپتال میں تھی .نہیں معلوم تھا کہ کس تماشائی نے ایمبولنس کو بلوایا ۔ نہیں جانتی تھی کہ ڈاکٹرز نے کیا کہا ۔ بس اتنا یاد تھا کہ ٹرک کا ٹائر میرے پاؤں پر سے گزرا تھا ۔ اور اس خیال سے متعلقہ میں کچھ سوچنا نہیں چاہتی تھی ، ابو جان ، حورعین ، چچی جان سب وہیں تھے . کوئی کچھ بول بتا ہی نہیں رہا تھا اس لیے کیونکہ بتانے کو کچھ تھا ہی نہیں۔۔۔۔۔“ ، ڈاکٹر مریم نے اب ٹانگ کے نیچے والے حصے پر شیٹس لگانا شروع کر دیا ۔
” ابو جان آگے آئے اور کہا ، ' بیٹا آپ کو سٹرانگ ہو کر سننا ہے جو میں بتانے جا رہا ہوں ' ، میں نے بات کاٹی اور کہا ، ' ابو جان آپ بتا دیں جو بھی بات ہے ۔' اور پھر انہورضی اللّٰہ تعالٰی انہوں نے بتا دیا ، میں نہیں جانتی کہ انہوں نے کیا کہا ـ کیا کیا دلاسے دیے ـ حورعین آئی اور مجھ سے لپٹ کر رو دی ۔ چچی جان اس کو تو باہر لے گئیں لیکن میں ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اس دن بس یہ پتا چل گیا کہ میں اب اپنا خواب پورا نہیں کر سکتی . میں آرمی جوائن نہیں کر سکتی . کیونکہ میں بیسٹ نہیں تھی ۔ کیونکہ میں ایک Amputee تھی۔۔۔۔۔“
ڈاکٹر مریم اب اس کی ٹانگ پر اپنا ہاتھ پھیر رہی تھیں .
” میں روئی نہیں تھی جس طرح میرا دل چاہا ۔ میں بس چپ ہو گئی تھی یا شاید ناراض تھی اللہ سے ۔۔۔ دعا مانگنا بھی چھوڑ چکی تھی ۔“ ، ڈاکٹر مریم نے افسوس کی نگاہ سے اس کی جانب دیکھا ۔
" میں چپ ہو گئی تھی ، نہ رونا نہ ہنسنا ، کچھ محسوس بھی نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر گھر ایک دن میم مریم ملنے آئیں ۔ وہ واحد ٹیچر تھیں میری جن سے ملنے کو میں نے انکار کر دیا ۔ کیونکہ صرف وہ ہی میرے جنون کہ متعلق جانتی تھیں ۔ لیکن انہوں نے ابو جان سے اجازت لی اور کمرے میں آگئیں ۔ میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی ۔
” حورعین میں نے کہا نا کہ مجھے میم سے نہیں ملنا ۔ پلیز فورس مت کرو ۔ میں اتنی بہادر نہیں ہوں کہ ان کا سامنا کر سکوں ـ“، حریم نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں ۔
” ارے میں تو جس حریم کو جانتی ہوں وہ تو بہت زیادہ بہادر ہے ـ“ ، میم مریم نے داخل ہوتے ہوئے کہا ۔ حریم نے آنکھیں کھولیں تو آنسو امڈ آئے ۔
" میم ۔۔۔۔۔۔ میم ۔۔۔۔۔ میں ،“
وہ اٹھ کر بیٹھی لیکن اس سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا ۔ میم مریم آگے آئیں اور اسے گلے سے لگا لیا ۔ اور حریم ان سے لگ کر رو دی ۔ اور آج ان سارے آنسوں کو راہ مل گئ جو کافی دنوں سے بند تھے ۔
” میم میں میرا ۔۔۔۔۔۔ میرا خواب پورا نہیں کر سکتی میں آرمی میں نہیں جا سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔۔۔آئی ایم ناٹ دی بیسٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ ، میم مریم نے بھی اسے نہیں روکا ۔
” میم۔۔۔۔۔۔ اللہ نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔۔ میرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا صرف ایک خواب تھا۔۔۔۔۔ صرف ایک۔۔۔۔۔ میم۔۔۔۔“، اور پھر جب وہ رو چکی ۔ اور چپ ہو گئی تو میم نے اس کو آہستہ سے اپنے سامنے کیا آنسو پونچھے اور کہا ۔
” حریم آپ کو زیادہ دکھ کس بات کا ہے میری جان ؟
۔ اس بات کا نا کہ اب آپ آرمی کے لیے اپلاے نہیں کر سکتیں ـ“
اور یہ کوئی سوال نہیں تھا ۔ حریم نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
” ہم۔۔م۔۔۔م اور اگر میں یہ کہوں کہ اللہ نے آپ کو اس سے بھی بڑا چانس دیا ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ “ ، میم مریم نے حریم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا جیسے ان کو اپنے کہے پر رتی برابر بھی شک نہ ہو ۔
حریم تو جیسے سکتے میں آگئی ۔
” کیا ایسا ہو سکتا ہے میم ؟ “ ( بے یقینی )
” بالکل ایسا ہو سکتا ہے ۔ حریم اللہ نے ہمیں مایوس ہونے سے منع کیا ہے ۔ اگر وہ ایک دروازہ بند کر ے تو کئی کھول بھی تو دیتا ہے ۔“ ، میم مریم نے اسے سمجھانا شرو ع کیا ۔
” حریم ہر انسان کے پاس دو طریقے ہوتے ہیں اپنا خواب پورا کرنے کے ۔ یا تو اسے خود پورا کرے یا پھر ۔۔۔۔ ، “ وہ تھوڑی دیر رکیں اور حریم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ۔
” یا پھر اس خواب کو ان لوگوں میں جزبے کے ساتھ منتقل کر دے جو اس کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اہم یہ نہیں کہ وہ خواب آپ نے پورا کیا ہو ۔ اہم یہ ہے کہ وہ خواب پورا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے خوابوں کو مرنے نہیں دینا چاہئیے حریم ۔“ ، جب وہ اپنی بات پوری کر چکیں تو حریم کے کندھے کو سہلاتے ہوے کہا ، ” حریم میں ہمیشہ سے آپ کی سپیکنگ پاور کی تعریف کرتی آئی ہوں ۔ آپ بہت اچھا کنونس کر سکتی ہیں ۔ آپ اگر آرمی میں جا نہیں سکیں تو نوجوان نسل کے دل میں اس محبت کو پیدا تو کر سکتی ہیں نہ ۔ آپ کا خواب کبھی مر ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔ کیونکہ اس ملک کے لیے جان دینے والے کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتے ، ہاں کچھ لوگ ہیں ایسے جو نہیں جانتے کہ وہ اپنے مستقبل کے ساتھ کیا کریں ، اگر ان میں آپ یہ صلاحیت دیکھیں تو بس وہ آپ کا خواب پورا کریں گے ۔“
۔
۔
۔
” اور ڈاکٹر وہ دن ہے اور آج کا دن میں مسلسل اپنے خواب پر کام کر رہی ہوں ۔“ ، اب کہ حریم نے قدرے اعتماد اور خوش ہو کر کہا ۔ اور دوسری جانب ڈاکٹر مریم کو لگاکہ اس وقت وہ دنیا کی سب سے بااعتماد اور خدا پر کامل یقین رکھنے والی لڑکی سے بات کر رہی ہیں ۔ اب انہوں نے سوکھے ہوے ماڈل کو آرام سے نکالا ۔ حریم کی ٹانگ کو ہر چیز سے آزاد کیا ۔ اور جب وہ واپس جانے کے لیے اٹھی تو اس کے قریب آکر کہا ۔
” حریم میں اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں سے ملی ہوں جو زندگی کی امید کھو بیٹھتے ہیں ۔ ۔ اور چند ایک بہادر بھی ہوتے ہیں لیکن میں آج تک آپ جتنے حوصلے والی لڑکی سے نہیں ملی ۔“
حریم نے مسکرا کر ان کو دیکھا اور وہ دل میں حریم کو دعاوں سے نواز گئیں ۔

Comments