Skip to main content

خواب قسط نمبر 4 اخری قسط



” حریم ۔۔۔۔۔ آپی۔۔۔۔۔حریم آپی . . . . ام۔۔۔۔۔روم نمبر تھا۔۔۔ او ہاں وہ رہا روم چچی جان ۔“ ، حورعین نے بلآخر کمرہ ڈھونڈ ہی لیا ۔ اور اس کمرے کے باہر حسن کو انتظار کرتے دیکھ کر اسے لگا کے شاید پچھلے دو کمروں کی طرح یہ بھی وہ نمبر نہیں لیکن وہ یہ بھی ماننے کو تیار نہیں تھی کہ وہ کمرے کا نمبر بھول چکی ہے ۔
اتنے میں حریم بھی اسی کمرے سے باہر آگئی ۔ لیکن اس سے پہلے کہ حسن آگے جاکر اس سے کچھ کہتا ۔ روما اس کے پاس چلی گئیں اور حسن نے مناسب نہیں سمجھا تو بس اسے ایک نظر دیکھ کر پلٹ گیا لیکن حورعین کی آنکھوں نے یہ منظر نوٹ کر لیا ۔ پھر بھاگ کر اس سے لپٹ گئی ۔
” آپی ! ،“
” آپ نے بتایا کیوں نہیں کہ آج سوکٹ بنے گا ۔ میں ساتھ آتی آپ کے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور غفور چچا بھی تو نہیں تھے آپ کے ساتھ ۔ کیسے آئیں آپ ؟“ ، حورعین تو بس گاڑی میں بیٹھتے ہی شروع ہو گئی ۔
” اللہ اللہ ۔۔۔۔۔ حورعین سانس تو لینے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی مجھے خود آج ہی پتا چلا ہے کہ سوکٹ آج بنے گا ۔“ ، حریم نے مسکراتے ہوے جواب دیا .
” تو پھر آپ ہسپتال کیسے گئیں ؟“ ، لیکن حورعین کے سوال ابھی ختم نہیں ہوئے تھے ۔
پہلے حریم نے سوچا کہ کیا بتا دینا ٹھیک ہو گا پھر یہ سوچ کر کہ چھپانے والی تو کوئی بات نہیں ہے بولی ۔
” ڈاکٹر مریم نے گاڑی بھجوا کے بلوا لیا تھا ۔“
” اوہ۔۔۔۔۔۔تو آپ ان کے ڈرائیور کے ساتھ آئیں ہیں ؟“ حورعین نے لفظ ڈرائیور پر زور دیا ۔
حریم سوچبے لگی کہ کیا حسن کو ڈرائیور کہنا اس کی پرسنیلٹی کی توہین نہیں ہو گا ۔
” بتائیں نا آپی . .. .؟“ ، حورعین نے پھر پوچھا تو آگے بیٹھی روما نے اسے ٹوک دیا ۔
” حورعین اب چھوڑ بھی دو اس بات کو ۔ اور حریم آپ بتاو کہ کتنے دنوں تک پروستھیٹک فوٹ تیار ہو کر آے گا ؟“ ،روما نے حریم کو مخاطب کر کے پوچھا۔
” ایک ہفتے تک چچی جان ۔“
” ایک ہفتہ یعنی کہ 21 کو ۔“ حورعین چہکی ۔ حریم نے مسکرا کر سر ہلا دیا ۔
” آپی آپ کو پتا ہے آج کھانا چچی جان کی طرف ہے . بیف سٹیکس بنیں گے ۔“ ، حریم نے شکوہ کرتی نظروں سے روما کو دیکھا تو بولیں ۔
” میری بڑی بیٹی کی خوشی میں دعوت ہے حریم بیٹا آپ بھی انوائٹد ہو ۔“
” تھینکس بٹ نو تھینکس چچی جان . آپ نا بھی بلاتیں تو میں حریم آپی کو لے آتی ۔“ ، اور حورعین کے جواب پر سبھی ہنس دیں ۔
***********
گھر آکر ان کو معلوم ہوا کہ ضمان صاحب اور فرقان صاحب بھی گھر پہ ہی ہیں ۔ پھر تو جیسے خوشیاں دوبالا ہو گئیں ۔
سب نے نہایت پرسکون ماحول میں کھانا کھایا ۔ کھانے پر جب معلوم ہوا کہ حریم ایک ہفتے کے بعد بالکل پہلے کی طرح چل سکے گی تو ضمان صاحب نے ڈھیر ساری رقم صدقے کیلیےدی ۔ حریم چائے کی شوقین نہیں تھی سو جلد ہی اپنے کمرے میں آگئی ۔ دروازہ بند کر کے سٹڈی ٹیبل پر بیٹھی اور اپنی ڈائری کھول لی ۔
” اللہ میں بہت عرصے بعد لکھ رہی ہوں ۔
وجہ بھی ہے۔۔۔۔ آج میں حقیقتا بہت خوش ہوں ۔ ایک ہفتے کا انتظار ہے اس کے بعد میری زندگی کا مقصد پورا ہونے جا رہا ہے ۔ آپ میری مدد کرئیے گا ۔ اس بار میرا خواب پر کن کہہ دیں اللہ ۔۔۔۔۔۔“ ، پھر حریم نے ڈائری بند کی اور اٹھ کر کیلنڈر کے سامنے آگئی ۔ وہاں پر اس دن سے ایک ہفتے بعد کی تاریخ پر بڑا سا گول دائرہ تھا ۔ حریم اسے دیکھنے لگی کہ دروازہ کھلا اور حورعین اندر آئی ۔
” کیا دیکھ رہی ہیں آپ آپی ؟“
” حورعین ٢١ کو آرمی میڈیکل کالج کی لسٹ لگنی ہے ۔ میرے دس سٹوڈنٹس نے اپلائی کیا ہے ۔ اب دیکھو کیا ہوگا۔۔۔۔“ ، حریم خاموش ہوئی تو حورعین اس کے پاس آگئی اور بولی ، ”آپی ان سب کا آپ ایڈمشن پکا سمجھیں ۔ آخر تیاری جو اتنی قابل استانی نے کروائی ہے ۔“ ، جس طرح حورعین نے کہا وہ دونوں ہنس دیں ۔
***********
پھر ایک ہفتہ ہوا کے دوش پر سوار ہو کر گزر گیا ۔ آج ضمان صاحب نے حریم کے ساتھ آنا چاہا تو وہ منع نہیں کر پائی ۔ حورعین بھی ساتھ ہی تھی ۔ جب وہ لوگ لابی میں انتظار کر رہے تھے تو ڈاکٹر مریم کے کمرے کا دروازہ کھلا اور اندر سے وہ اور کیپٹن حسن باہر آئے ۔ ڈاکٹر مریم نے حریم کو گلے لگایا اور کہا ،
” آپ تیار ہیں ؟“
”جی ۔“ ، حریم مسکرا دی ۔
” ڈاکٹر ! کیا ہم بھی آپ کے ساتھ اندر آسکتے ہیں ؟“، حورعین نے اجازت لینا چاہی ۔ ڈاکٹر مریم نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا تو حریم نے تعارف کروایا ۔
” یہ میری چھوٹی بہن ہیں ۔ حورعین ۔“
” آئی ایم سو سوری حورعین لیکن مجھے لگتا ہے کہ آپ کو سرپرائز زیادہ اچھا لگے گا ۔ وہ ایکچوئلی میں اس پروسس کے دوران سٹاف کو بھی منع کر دیتی ہوں ۔ کانسنٹریشن نہیں رہ پاتی نا ۔“ ، ڈاکٹر مریم نے معزرت کر لی ـ
” کوئی بات نہیں آئی انڈرسٹینڈ ۔“ حورعین نے مسکراہٹ سجائے کہا ، اور ڈاکٹر اس کا کندھا تھپتھپا کر حریم کو لیے چلی گئیں ۔ ضمان صاحب ریسپشن پر بلز کلیر کروانے چلے گئے اور حسن ویٹنگ چیئرز پر انتظار کر رہا تھا جسے حورعین نے دیکھ کیا .
***********
اندر ڈاکٹر مریم کے کمرے میں انہوں نے حریم کو ایک کرسی پر بیٹھنے کا کہا اور خود اس کا نیا بنا ہوا ساکٹ اور پروستھیٹک فوٹ لے آئیں ۔
نقلی پاوں تو بالکل ہی حریم کے پاوں جیسا تھا . لیکن سوکٹ اس طرح کا تھا کہ وہ آدھی ٹانگ تک حریم کی ٹانگ کی طرح تھا پھر آگے سے اس کو میٹل راڈز کے ذریعے نقلی پاوں سے جوڑا گیا تھا ۔ اور جب ان دونوں کو اکٹھا پہنا جاتا تو پائنچہ راڈ کو چھپا لے گا جو کہ دیکھنے والے کو بالکل نارمل ٹانگ کا تاثر دیتا ۔
اب ڈاکٹر مریم نے حریم کو وہ ساکٹ پہنایا اور اس کو ٹانگ کے ساتھ جوڑ دیا ۔ پھر آگے نقلی پاوں لگایا اور حریم کو کھڑا ہونے کا کہا ۔ حریم نے گہری سانس لی اور کھڑے ہو کر اپنے پاوں کو محوس کرنا چاہا ۔ اس کو ایک لمحے یقین ہی نہیں آیا کہ وہ اتنے عرصے بعد بغیر سہارے کے کھڑی ہے ۔ ڈاکٹر مریم نے اس کا ہاتھ تھاما اور ایک دو قدم چلنے کا کہا ۔ لیکن حریم کو لگا کہ ساکٹ والا پاوں نارمل والے سے تھوڑا اونچا ہے . ڈاکٹر نے اس کو دوبارہ بٹھایا اور راڈ کی لمبائی تھوڑی کم کی ۔
اب کی بار حریم کو چلنے میں کافی آسانی ہوئی ۔ اب ڈاکٹر مریم حریم کو چلنے کی پریکٹس کروا رہی تھیں ۔
***********
”وہ میری بہن ہیں۔“ ، حورعین نے حسن کے پیچھے سے آتے ہوئے اس کی چوری پکڑی جو کہ کافی دیر سےاس دروازے کو دیکھ رہا تھا جہاں اندر حریم تھی ( اور مسکرا بھی تو رہا تھا ) ۔ اس پر وہ گھبرا گیا لیکن جلد ہی خود پر قابو پاتے ہوئے بولا ۔
” ایکسکیوز می! “ ، حورعین بڑے آرام سے ایک کرسی کھینچ کر اس کے ساتھ بیٹھ گئی ۔
” ایکسکیوزڈ ۔ جی تو میں کہہ رہی تھی کہ حریم آپی میری بہن ہیں جن کو آپ کافی دیر سے دیکھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں دیکھ نہیں گھور رہے ہیں ۔“ ، حسن نے گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے اس کی طرف حیرت سے دیکھا ۔
” میں تو ایسے ہی دیکھ رہا تھا ۔“ ، وضاحت دی ۔
” جی وہ تو میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ کیسے دیکھ رہے ہیں ۔“ ، حورعین نے سنجیدہ ہونے کی ناکام کوشش کی ۔ حسن اس کے تاثرات کو پرکھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ حورعین کی اداکاری جواب دے گئ تو بولی ۔
” ارے آپ پریشان کیوں ہو رہے۔۔۔۔۔ میں تو آپ کا بھلا چاہ رہی تھی ۔“ ، حورعین نے آگے ہوتے ہوے راضداری سے کہا ۔ اب حسن بھی قدرے سنبھل چکا تھا ۔ تو مسکرا کر بولا ، ”اچھا ! اور وہ کیسے ؟ “
” سیدھی سی بات ہے آپ آپی کو پسند کرتے ہیں اور ان سے کہتے ہوئے ڈرتے ہے(حسن کے تاثرات دیکھتے ہوے جملہ بدلا ) ٹھیک ہے ٹھیک ہے ڈر نہیں لگتا شرم آتی ہے ۔“ ، مسکراہٹ دبائے وہ سنجیدگی سے کہہ رہی تھی کہ حسن زور سے ہنس دیا اور بولا ۔
” نہیں نہیں شرم نہیں ، ڈر والا آپشن زیادہ بہتر ہے ۔“ جس پر حورعین بھی ہنس دی ۔
” میں آپ کی مدد کرنے کو تیار ہوں ۔ مانتی ہوں کہ آپی کو منانا آسان نہ ہو گا پر میں کوشش پوری کروں گی ۔ سو فرینڈز ؟“ ، حسن نے آنکھ دبائی اور اثبات میں سر ہلا دیا ۔
”جی تو پہلے اپنا تعارف کروایں ۔“
”آئی ایم کیپٹن حسن ، عمر ٢٦ ہے ، ڈاکٹر مریم از مائے مدر ۔“ حسن نے مختصر سا تعارف کروایا ۔
”اوہ۔۔۔ ٹھیک ٹھیک ۔ حریم آپی بہت تعریف کرتی ہیں ڈاکٹر مریم کی ۔“
”کیا کہتی ہیں آپ کی حریم آپی؟“ ، حسن نےدلچسپی دکھائی ۔
” کہتی ہیں کے انہوں نے ایک بار پھر سے مجھے مکمل کر دیا ۔“ ، حور عین نے حریم کے الفاظ دہرائے ۔
” اچھا چھوڑیں یہ سب ۔ یہ بتائیں کہ اگر میں نے آپ کا کام کر دیا تو مجھے کیا ملے گا ۔“ ، حورعین بغیر کسی فائدے کہ تو یہ کام کرنے والی تھی نہیں ۔
” کیا چاہئیے آپ کو ؟“ ، حسن نے پوچھا تو بولی ۔
” حسن بھائی مجھے آپی کی خوشیوں کی گارنٹی چاہیے ۔ وہ ایکسڈنٹ کے بعد سے بہت بدل گئی ہیں ۔ وہ بہت زیادہ ہنستی بھی نہیں ہیں ۔ اور ۔ ۔ ۔ ۔ اور آپ پرامس کریں کہ اگر میں نے آپ کی مدد کی تو آپ مجھے پہلے جیسی آپی لا کر دیں گے ۔“ ، حورعین کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔
حسن آگے کو ہوا اور اس کے سر پر نرمی سے ہاتھ پھیر کر کہا ۔
” حورعین اگر تو آپ ہمیں ملانے میں کامیاب ہو گئیں تو یہ میرا وعدہ ہے کہ میری طرف سے حریم کو کوئی بھی دکھ نہیں ہو گا ۔“ ، حورعین مسکرا دی ۔
” یہ تو بتائیں کہ آپ میری مدد کیسے کریں گی ؟“ ، حسن نے مسکرا کر پوچھا ۔
” وہ تو ابھی میں سوچوں گی ۔“ ، اتنے میں ڈاکٹر مریم کے کمرے کا دروازہ کھلا اور وہ مسکراتی ہوئی باہر آئیں ۔
ان کے پیچھے ہی حریم تھی جو کہ مسکراتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم لے کر آرہی تھی ۔ ابھی اس نے ڈاکٹر مریم کا ہاتھ تھام رکھا تھا ۔ حورعین لپک کر حریم کے پاس گئی اور اس کا دوسرا ہاتھ پکڑ لیا ۔ اب وہ ان دونوں کے ہاتھ پکڑے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا رہی تھی ۔
ضمان صاحب بھی ان کے قریب چلے آئے ۔ انہوں نے آکر حریم کے سر پر بوسہ دیا ۔ اب ان کی بہادر بیٹی پھر سے مکمل ہو گئی تھی ۔ وہ خوش تھے ۔ حسن بھی دور کھڑا مسکرا رہا تھا ۔ اور حورعین اب حریم کے کان میں سرگوشیاں کر رہی تھی ۔
*********
حریم نے ابھی گھر کے لان میں قدم رکھے ہی تھے کہ زور سے ٹھا کی آواز آئی اور حریم کے اوپر ڈھیر سارے چھوٹے چھوٹے رنگین کاغذ جن میں گلیٹر اور پھولوں کی پتیاں بھی شامل تھیں وہ گر گئے ۔
حریم نے حیرت سے ارد گرد دیکھا تو وہاں سبھی موجود تھے ۔ حیدر اور طوبہ کے ہاتھوں میں بڑے بڑے غبارے تھے ۔ فرقان اور روما کے ہاتھوں میں گلدستے تھے ۔ اور حورعین بھی جلدی سے ان سب میں شامل ہو گئی ۔ سب نے اس رات بھر پور مزہ کیا ۔بار بی قیو کا انتظام کیا گیا تھا جو کہ فرقان صاحب کی جانب سے تھا ۔ انہوں نے کہا ہوا تھا کے وہ کسی کی مدد نہیں لیں گے اور سب کو اپنے ہاتھ کا بنا کھلائیں گے ۔
” حریم آپی اب آپ بھی ہمارے ساتھ بھاگ سکیں گی نا ؟“ ، طوبہ نے معصوما نا سوال کیا تو سبھی ہنس دیے ۔
”جی بالکل ابھی بھاگ کے دکھاوں ؟“
” پر ابھی آپ بھاگ کر جائیں گی کہاں ؟“
” ارے اب بھاگنا ہی ہے آپی نے ، اور بھاگ کر اب انہوں نے شادی کرنی ہے اور وہ بھی کسی آرمی آفیسر سے ۔“ ، اس سے پہلے کہ حریم جواب دیتی حورعین بول پڑی ۔
جس پر حریم اس پر غصہ ہوتے بولی ، ” شرم کرو حورعین ۔ بچے ایسی باتیں نہیں کرتے ۔“
” ارے میں کیوں شرم کروں کون سا میری شادی کی بات ہو رہی ہے ؟“ ، حورعین پر کون سا اثر ہونا تھا ۔ ” چچی جان آپ ہی سمجھائیں اس کو ۔“ ، حریم نے اب مدد کیلیے روما کی جانب دیکھا ۔
” حورعین بچے کیوں تنگ کر رہی ہو بہن کو ۔“ ، حریم پھر سے آرام سے بیٹھ گئی جبکہ روما آفندی کی بات ابھی پوری نہیں ہوی تھی وہ بولیں ۔
” ہو سکتا ہے کہ لڑکا آرمی کا جوان نا ہو بلکہ کوئی بزنس مین ہو ۔“ ، اور وہ دونوں ہنس دیں جبکہ حریم کی حالت غیر ہو رہی تھی ۔
” جی کون ہے یہ آرمی کا جوان جس کی بات ہو رہی ہے ؟“ ، اسی وقت فرقان اور ضمان صاحب چائے لے آئے اور ان کی آدھی ادھوری باتیں سن لیں ۔
”ابوجان ہم حریم آپی کیلیے لڑکا ڈھونڈ رہے ہیں اور چچی جان کہہ رہی ہیں کہ بزنس مین جبکہ میں بالکل اس حق میں نہیں ہوں ۔ مجھے تو اپنے بھائی آرمی کے جوان چاہئیے ۔“
” مطلب کہ میں اردگرد دیکھنا شروع کر دوں ۔“ ، فرقان نے بھی موضوع میں اپنا حصہ ڈالا ۔
”چچا جان آپ بھی ۔“ ، حریم اب کہ بس رونے ہی والی تھی ۔
” چلو چلو سب چاے لو ۔“ ، ضمان صاحب نے گویا موضوع بدلنا چاہا ۔ حریم چونکہ چاے نہیں پیتی تھی تو اٹھ کر اندر اپنے کمرے میں چلی آئی ۔
صبح سے اس نے اپنا موبائل نہیں دیکھا تھا تو معلوم نا ہو سکا کہ اس کا خواب مکمل ہوا یا نہیں ۔
لیکن جیسے ہی وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی اندر آئی اور "خواب" والی پینٹنگ پر جب نگاہ پڑی تو جلدی سے سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھانے کیلیے دوڑی اور اس کے قریب پہنچ کر لرکھڑا کر گر گئ ۔ تکلیف تو ہوئی لیکن وہ قابو پاگئی اور موبائل آن کر کے میسجز پڑھنے لگی ۔
**********
دروازہ کھول کر ضمان صاحب اندر آئے تو دیکھا کہ حریم بیڈ کے پاس قالین پر بیٹھی رو رہی ہے تو گھبرا کر اس کی جانب گئے اور حریم کو اٹھا کر بیڈ پر بٹھا کر ساتھ لگا لیا ۔ جس سے حریم کے رونے میں شدت آگئی تو وہ مزید گھبرا گئے اور بولے ، ”حریم بیٹا حورعین اور فرقان تو مزاق کر رہے تھے ۔ دیکھنا میں ابھی جا کر ان کی خبر لیتا ہوں ۔ میری پھول جیسی بیٹی کو رلا دیا ۔“
ضمان صاحب کو لگا کہ حریم فرقان اور حورعین کی باتوں کو دل پر لے گئی ہے ۔
” نہیں ابو جان ان کو کچھ مت کہیئے گا ـ“ ، ساتھ میں وہ ہنس دی ۔
” نہیں نہیں میں ان کو ضرور ڈانٹوں گا ۔“ ، اس کو بڑے پیار سے خود سے الگ کر کے آنسو صاف کیے تو وہ بولی ۔
” ابو جان میں واقعی ان کی وجہ سے نہیں رو رہی ۔“ ”پھر کیوں رو رہی ہیں آپ ؟“ ، انہوں نے فکرمندی سے پوچھا ۔
”پاؤ میں درد تو نہیں ہو رہا ۔“
” نہیں ابو جان بلکہ اب تو سب درد ختم ہو گئے ہیں ۔ ابو جان۔۔۔۔۔ابو جان میرا خواب۔۔۔۔میرا خواب پورا ہو گیا ۔“
اور وہ ایک مرتبہ پھر سے ان کے ساتھ لگ کر رو دی ۔ ”اس کا مطلب کہ میری بیٹی کے سٹوڈنٹ کا آرمی میں ایڈمیشن ہو گیا ہے ۔“
” ابو جان ایک سٹوڈنٹ نہیں سات ۔“ ، اب اس نے اپنے آنسو صاف کیے ۔
انسان کے آنسو ہی اس کے احساسات کی زبان بن جاتے ہیں ، چاہے موقع خوشی کا ہو یا غم کا ـ
”چلیں اب آپ اٹھیں اور الله کا شکریہ ادا کریں اور چونکہ اب آپ حورعین کی بات پر ناراض نہیں ہیں تو میں اس معاملے میں آپ کی ہاں سمجھ سکتا ہوں ۔“ انہوں نے اتنا سنجیدہ ہو کر کہا کہ حریم نہ ہی ناراضگی کا اظہار کر سکی اور نہ ہی منع کر پائی ۔ ”جیسے آپ چاہیں ابو جان ۔“ ، اور اٹھ کر نماز پڑھنے چلی گئی ۔ آج اس کی دعا تشکر بھری اور طویل ہونے والی تھی ۔
**********
حسن کتنی دیر سے ریسٹورنٹ میں حریم کا انتظار کر رہا تھا اس کے ساتھ حورعین بھی بیٹھی تھی ۔ ”آجائیں گی آپی اور نہیں آپ کو کھا جائیں گی جو اتنا ڈر رہے ہیں کپتان ۔“
حورعین کا حسن کی حالت کو دیکھ ہنسی روکنا مشکل ہو رہا تھا جبکہ حسن نے اس کو مصنوعی گھوری سے نوازا ۔
اتنےمیں دروازے سے حریم داخل ہوتی دکھائی دی ۔ ”آپی آگئیں ۔“ ، حورعین بولی کیونکہ حسن اس کی پشت والی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ اس زاویہ پر حریم کو بھی وہ نظر نہیں آیا ۔ حریم کو لگا کہ حورعین اکیلی بیٹھی ہے تو اس کے قریب آکر کہا ، ”حورعین آپ نے کہا تھا کہ کسی دوست سے۔۔۔۔۔۔۔“ ، اور وہ کہتے کہتے رک گئی جب اس نے حسن کو وہاں بیٹھا دیکھا ۔
” آئیں نہ آپی ۔“ ، حورعین نے مسکرا کر حریم کو اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھنے کو کہا ۔ آج اس نے ڈارک گرین کلر کا گٹنوں تک آتا بڑے گھیرے والا فراک اور ساتھ میں چوڑی دار پاجامہ پہنا تھا ۔ سر پر سکارف اسی طرح تھا جیسا ان کی پہلی ملاقات میں تھا ۔ اور ایک چیز کی خوشگوار کمی تھی وہ تھی حریم کی سٹیکس ۔ آج بھی وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا رہی تھی لیکن پہلے سے کافی بہتر تھی۔ حورعین کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی ۔
” حورعین مجھے لگا آپ کی کسی سکول فیلو سے ملنا ہو گا مجھے ۔“
” ہنہ۔۔۔۔۔ آپ کو یہ ہی لگا ہو گا کہ میں نے آپ کو یہاں اپنی دوست کی منتیں کرنے کیلیے بلوایا ہے کہ وہ فائنلز میں میری مدد کرے ۔“ ، حورعین نے خفگی سے کہا ۔
”بالکل مجھے یہ ہی لگا تھا ۔“ ، اور اس دوران وہ دونوں سراسر حسن کو فراموش کر رہی تھیں ۔
” دراصل آپی آپ کو صحیح لگا میں یہاں اپنی فرینڈ کی ہلپ ہی لینے آئی ہوں ۔“
”اوہ ۔۔۔۔ میری مدد کے بغیر امپریسو ۔“، حریم نے ناک سے مکھی اڑائی ۔
”وہ دیکھیں اینٹرینس کے پاس جو ٹیبل ہے وہاں میری دوست بیٹھی ہے جو کہ مجھے ہی ویو کر رہی ہے سو آئی ایم گوینگ ۔ انجوائے یور لنچ ۔“، یہ کہہ کر حریم کو کچھ کہنے کا موقی دیے بغیر حورعین اپنی دوست کی جانب چل دی ۔
حسن نے بھی اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی ویٹر کو بلوا لیا ۔ وہ حریم کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہا تھا جبکہ وہ اسی کو دیکھ رہی تھی ۔
ۭ جی دو سوفٹ ڈرنکس اور دو چائینیز رائس کر لیں ۔ حریم آپ بھی چائینیز کے ساتھ ٹھیک ہیں نہ ۔“ ، حریم کو اب اس کے انداز پر ہنسی آرہی تھی کیونکہ اتنا تو اس کو پتا چل ہی گیا تھا کہ یہاں پر اسے حسن سے ہی ملنے بلوایا گیا ہے ۔
” اوکے ۔“، جب ویٹر آڈر نوٹ کر کہ چلا گیا تو ان کے ٹیبل پر خاموشی چھا گئی ۔
” حسن آپ کہہ دیں جو آپ نے کہنا ہے ۔“، حریم نے سنجیدہ ہو کر کہا تو وہ بولا ، ”آپ غصے میں کیا کرتی ہیں؟“
حریم کےلیے یہ سوال غیر معمولی تھا تو فقط جی کہہ پائی ۔
” غصہ۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ آپ غصے میں کیا کرتی ہیں ؟“ ، اب حریم نے حسن کی نظروں کا تعاقب کیا تو بولی ۔
” جب کوئی شخص ایسی بات کرے جو مجھے نہیں پسند تو پہلے تو میں اس پر جی بھر کے چلاتی ہوں اور پھر اگر آس پاس کوئی کانچ خاص طور پر گلاس یا گلدان ہو تو پھر اس کو اپنا سر بچانا چاہئیے ۔“ حریم نے اسے ڈرانے کی بھرپور کوشش کی تو وہ بولا ”بھئی رہنے دیں میں کچھ نہیں کہہ رہا ۔“ ، جس طرح حسن نے یہ کہا حریم ہنس دی جسے دیکھ کر وہ بھی ہنس دیا ۔
” جی ۔“
” جی تو ۔۔“ ، دونوں اکٹھے بولے اور پھر ہنس دیے ۔ ”حریم میں مما کو آپ کے گھر بھجوانا چاہتا ہوں ۔ آئی وانا میری یو ۔“ ، حسن نے اپنے دل کی بات کہ دی ۔
حریم پہلے تو پانچ چھہ لمحے خاموش رہی پھر بولی ۔
” میں مکمل نہیں ہوں ، میرے ساتھ آپ کی لائف نارمل نہیں ہو گی ۔“ ، حریم چند لمحے رکی پھر بولی ” آپ یقین کریں حسن جب میں ٹین ایجر تھی تو باقائدہ دعا کیا کرتی تھی کہ میری شادی فوجی سے ہو ۔“ ، ساتھ میں وہ زخمی سا ہنس دی ۔
” لیکن جس طرح اب میں فوج میں جا نہیں سکتی ۔ کیسے ایک رکھوالے کی زندگی میں آجاؤں ؟“ ، حسن جو بغور اس کو سن رہا تھا بولا ، ” کیا صرف یہ ہی وجہ ہے ؟“
” آپ کو لگتا ہے یہ وجہ چھوٹی ہے ؟“
” میں نے جو پوچھا وہ بتائیں ۔ کیا صرف یہ ہی ایک وجہ ہے ؟“
”ہاں !“
” تو پھر سنیں ۔ میری نظر میں یہ کوئی جواز نہیں ہے ۔ جہاں تک رہی بات مکمل ہونے کی تو وہ اللہ کی ذات کے علاوہ کسی کی نہیں ہے ۔ اس کمپلیکشن سے نکل آئیں آپ ۔“
حریم نے سر جھکا لیا ۔
” سٹاپ تھنکنگ یوورسیلف ایذ ڈیس ایبل ۔“
اب کی بار حسن نے مسکرا کر جواب دیا تو حریم کی آنکھوں میں نمی ابھرنے لگی جسے اس نے بڑی مشکل سے قابو میں کیا ۔
” حریم مجھے آپ کی شخصیت نے انسپائر کیا ہے نہ کہ آپ کی ظاہری حالت نے ، میں نے جب بھی ہمسفر کے متعلق سوچا میرے ذہن میں وطن سے محبت کرنے والی تصویر ابھری ، تو اب آپ یہ بتائیں کہ آپ آسانی سے مانیں گی یا میں ؟ ۔“
” آپ کیا کریں گے ؟“ ، حریم نے ابرو اچکا کر پوچھا ۔
”نہیں تو پھر میں پاکستان کا قومی ترانہ ایز بیک گراؤنڈ میوزک لگواؤں گا اور جھنڈیوں کا بوکے آپ کی خدمت میں پیش کروں گا اور پھر آپ کو بھرے ریسٹوران میں پرپوز کروں گا ۔“
” ہاہاہاہاہا۔۔۔نہیں ایسا مت کریے گا پلیز ۔“ ، اتنے میں ان کا کھانا سرو کر دیا گیا ۔
” آپ اچھے انسان ہیں کیپٹن حسن ۔“ ، حریم نے تعریف کی تو بولا ۔
”جی اور میں جہان سکندر کی طرح باتیں بھی کرتا ہوں۔“ ، شوخی سے مسکرا کر بولا تو دونوں ہنس دیے۔
***********
پانچ سال بعد
میجر حسن نے گھر میں قدم رکھے تو سامنے ہی تین سالہ حنان اپنے کھلونوں کے ساتھ کھیلتا ہوا نظر آیا ۔ ساتھ ہی حورعین بھی تھی جو کہ اپنے بھانجے کے ساتھ مستیاں کرنے میں مصروف تھی ۔
حنان کی نظر جب اپنے بابا جان پر پڑی تو دوڑتا ہوا اس سے لپٹ گیا ۔ حورعین نے بھی دیکھا تو سلام کیا ۔
” السلام و علیکم بھائی۔ آپ نے بتایا ہی نہیں آنے کے بارے میں ، آپی کالج میں ہیں ۔“
” بتا دیا ہوتا تو اپنی بہن کا کھلا ہوا منہ کیسے دیکھ پاتا ۔“ ، حورعین نے جلد ہی منہ بند کیا اور مصنوعی ناراضگی سے بولی ، ” اور حریم آپی کو دیکھو انہوں نے بھی نہیں بتایا کہ آپ آرہے ہیں ۔“
” وہ اس لیے کیونکہ اس کو خود بھی نہیں پتا کہ میں آرہا ہوں۔ دراصل سائٹ پر ہماری اچھی کارگردگی کو دیکھتے ہوئے کچھ دنوں کی چھٹی پر ہوں ۔“ حسن نے وجہ بتائی ۔
” مطلب کہ حریم آپی کا بھی کھلا ہوا منہ دیکھنے کو ملے گا ۔" ،حورعین ہنستی ہوئی دوڑ کر اندر چلی گئی تاکہ حسن کیلیے پانی لاسکے اور حسن حنان کو اٹھا کر اندر ڈاکٹر مریم سے ملنے چلا گیا ۔
*********
” جی تو کلاس جو ٹیسٹ میں نے دیا ہے میرے خیال سے آپ کو اس کی تیاری کیلیے کافی وقت درکار ہے اور آج سے ٹھیک تین دن بعد آپ کا ٹیسٹ ہو گا ۔“ حریم نے اپنی چیزیں میز پر سے سمیٹیں اور پھر بولی ۔
“Any question clas”
” میم مجھے ایک سوال پوچھنا ہے “ ، عدینہ نے ہاتھ کھڑا کر کے اجازت چاہی ۔
” جی “
" Mam how does it feel , I mean being an amputee ?"
اس کے اس سوال پر کئی طلبہ نے مڑ مڑ کر اس کو دیکھا کیونکہ ان کیلیے یہ موضوع غیر متوقع تھا . کچھ کو تو معلوم بھی نہ تھا کہ حریم کے ساتھ کیا حادثہ ہو چکا ہے ۔
حریم نے پہلے چند لمحے سوچا پھر بولی تو نہایت ٹھرے ہوے لہجے میں ، ” I feel normal “ ، ساتھ مسکرا دی جس سے عدینہ کو تھوڑا اعتماد ملا ۔
” میں صبح نارمل لوگوں کی طرح اٹھتی ہوں ۔ نارمل بیوی ، بہن ، بیٹی اور ماں ہوں ۔ اور میرا بیٹا بھی مجھے نارمل بچوں کی طرح تنگ کرتا ہے (کلاس ہنس دی ) جہاں تک رہی بات Amputee کی تو میرے لیے بس تھورا سا چینج ہے وہ ایسے کہ صبح آپ لوگ ایک جرابوں کا جوڑا پہنتے ہو مجھے زیادہ پہننے پڑتے ہیں ۔“
سب پھر سے ہنس دیے ۔ وہ لمحے بھر کو رکی پھر بولی ، ” معزور ہونا کوئی بیماری نہیں ہے ایک کنڈیشن ہے جس کے ساتھ آپ کو رہنا ہے بس ۔ آپ کو یہ ہر گز نہیں سوچنا چاہئیے کہ آپ ڈس ایبل ہیں ، بلکہ آپ الگ طریقے سے ایبل ہیں ۔“
رکی پھر بولی ” It is a condition “
اور مسکرا دی ۔ سب مسکرا دیے ،
. "I am not disabled i am differently abled ."
اتنا کہہ کر حریم باہر آبے لگی تو سب طلبہ پیچھے سے کھڑے ہو گئے اور تالیاں بجانے لگے ۔ حریم نے مسکرا کر ان کو بیٹھنے کا کہا اتنے میں بیل ہو گئی اور سب باہر آگئے ۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے حریم نے موبائل آن کیا تو حورعین کا میسج آیا ہوا تھا ۔
” گھر میں آپ کےلیے سرپرائز ہے ـ“
” اور وہ کیا ہے ؟“
” سرپرائز بتایا نہیں جاتا “ ، ساتھ ہی جواب آگیا ۔ حریم مسکرا دی .
” ہاں اگر آپ کو جلدی ہے جاننے کی تو جلدی سے گھر آجائیں ۔“ ، پھر سے حورعین کا میسج آیا ۔
” میں آرہی ہوں ـ“
” گریٹ ۔“
جب گاڑی گھر کے لان میں رکی تو حریم کو حورعین دور سے ہی لان میں ٹہلتی ہوئی نظر آئی ۔ اس کے پاس جا کر سلام کیا تو بولی ،
”آپی آئی ایم سو سوری آپی ۔“ ،حورعین نے اداکاری شروع کر دی ۔
” ہوا کیا ہے ؟“ ، اب حریم پریشان ہونے لگی ۔
” میں نے بہت کوشش کی کہ آپ کے سرپرائز کو ویسے ہی دکھاوں جیسا آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن وہ اپنی پہلی والی حالت میں نہیں ہے ۔“ ، حورعین نے سر جھکا کر کہا ۔
” حورعین اب تم مجھے تنگ کر رہی ہو ۔ سچ سچ بتاو کچھ ہوا ہے کیا ؟“
” آپ خود اپنے کمرے میں دیکھ لیں ـ“
حورعین نے مزید سر جھکا لیا ۔
حریم لمبے لمبے قدم اٹھاتی اپنے کمرے کی طرف چل دی .کمرے کا دروازہ کھول کر دیکھا تو حسن بیڈ پر سو رہا تھا ۔
اتنے میں میسج ٹون بجی تو کھول کر دیکھا ۔
”میں نے تو کہا تھا کہ پہلی والی حالت میں نہیں ہیں ۔ جب آئے تو یونیفارم میں تھے ۔“ ، ساتھ میں ایک ہنستا ہوا ایموجی تھا ۔
حریم نے بھی غصے والا ایموجی بھیجا تو میسج آیا۔
” کیسا لگا سرپرائز ـ“
” ہمیشہ کی طرح خوبصورت ۔“ حریم مسکرا دی ۔ ”اچھا آپی میں گھر جا رہی ہوں چچی جان کی کال آئی تھی ۔ آپ اپنے خوبصورت سرپرایئز کے ساتھ ٹائم سپینڈ کریں ۔“
حریم ہنس دی اور بولی ، ”پوری ڈرامہ ہے یہ ۔“
” کس سے کہا ؟“ حسن اٹھ گیا ۔
” ارے آپ اٹھ گئے . سوری ـ“ ، حریم معزرت کر کے اس کے پاس آکر بیڈ پہ بیٹھ گئی ۔
” جی جب آپ مجھے ڈرامہ کہہ رہی تھیں تو اٹھنا تو تھا ہی نہ ۔“
” میں آپ کو تونہیں کہہ رہی تھی ـ وہ تو حورعین سے میسج پر کہا تھا ـ“
”اچھا چلیں کر لیا یقین ۔“ ، جیسے کوئی احسان کیا ہو ۔
” کیسے ہیں آپ ؟ “ ، فکرمندی سے پوچھا ، ساتھ ماتھے پر ہاتھ پھیرا جیسے تھکن کی وجہ سے ہو جانےوالے بخار کو چیک کر رہی ہو ۔
” بالکل فٹ ہوں ( حریم کا ہاتھ ماتھے سے ہٹا کر ہاتھوں میں لے لیا اور کئی لمحے اسے دیکھتا رہا جیسے بہت یاد کیا ہو اس چہرے کو ) اوہ۔۔۔۔ہاں یاد آیا ۔“ ، یہ کہہ کر وہ بیڈ سے اٹھا اور اپنے بیگ کی طرف گیا ۔
” کیا ؟“
” مراد ۔“
”کون مراد ؟“
” آپ کا سٹوڈنٹ مراد ۔ مجھ سے ملا تھا ۔ جب پتا چلا کہ آپ کی مجھ سے شادی ہو گئی ہے تو یہ خط دیا کہ آپ کو دے دوں ۔“
” کیا ہے اس میں ۔“ ، حریم نے ناسمجھی سے اس خط کو دیکھا ـ
” فکر نہیں کریں لو لیٹر نہیں ہے ۔“ ، اب وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا بالوں میں برش پھیررہا تھا ۔
” مطلب کہ میجر صاحب آلریڈی پڑھ چکے ہیں ۔“
” بالکل ۔“ ، کوئی ندامت کا احساس ہی نہیں ۔
اب وہ آکر دوبارہ بیڈ پر بیٹھا اور ساتھ میں لیپ ٹاپ آن کر لیا ۔
” پ نیچے نہیں آرہے ؟“
” بس ایک ضروری میل کر لوں ۔“
” ٹھیک ۔ میں کھانا لگواتی ہوں ۔“ ، یہ کہہ کر خط لے کر حریم باہر آگئی ۔
” میم ! السلام علیکم ! میجر حسن میرے سینئر ہیں ۔ ان سے آپ کی شادی کا معلوم ہوا اور یہ بھی کہ اب آپ سٹیکس استعمال نہیں کرتیں ۔ بہت خوشی ہوئی یہ جان کر ۔ میم آپ کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے کیونکہ آپ کی وجہ سے میں اس راہ پر ہوں جو مجھے سیدھا جنت میں لے جائے گی۔۔۔۔۔۔۔تھینک یو .
میم آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ ایک جوان کس طرح اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کیلیے نکلتا ہے ۔ وہ جذبہ کہاں سے آتا ہے اور آپ نے اینٹ اٹھا دینے کی مثال سے سمجھایا تھا ۔ میں نے وہ مثال اپنی زندگی میں لاگو کی ۔ اور جو خوشی مجھے ہوئی میں نے اس کو دل میں محسوس کیا ۔ پھر میرے دل میں اس سے زیادہ کرنے کی چاہ ابھری تو آرمی جوائن کی ۔
میم ہم دہشتگردوں سے مقابلہ کر رہے تھے ۔ میرے سب سے اچھے دوست کو سینے میں چار گولیاں لگیں ۔ وہ میرے ہاتھوں میں تھا جب اس کی روح نے اس کے جسم کو چھوڑا ۔ جب اس کی آنکھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کی گئیں ۔ اور اس دوران اس کے چہرے پر سکون اور کچھ پالینے کی خوشی نے میرے تمام سوالوں کے جواب دیدیے ۔ مجھے پتا چل گیا کہ کیوں ایک سپاہی کی نظروں میں یہ عارضی زندگی کوئ معنی نہیں رکھتی ۔ مجھے پتا چل گیا ہے کہ کیوں وہ اس دنیا کی چاہ نہیں کرتا " کیونکہ اس جان کے بدلے میں جو زندگی اسے دی جائے گی اس کی تمنا تو انبیاؑ نے بھی کی ہے وہ تو مردہ ہوتے ہی نہیں ہیں ، اللہ نے ایسا کہنے سے منع کیا ہے " مجھے سب جواب مل گئے ایک بار پھر سے شکریہ میم ۔ میری زندگی کے ساتھ ساتھ آخرت سنوارنے کیلیے ۔“
جب خط ختم ہوا تو حریم کا چہرہ آنسووں سے تر تھا ۔ وہ کچن سے باہر آئی تو اس کی نظر سامنے کھیلتے حنان پر پڑی جو کہ اپنے بابا جان کی ہیٹ پہنے خود کو شیشے میں دیکھ رہا تھا ۔ حریم چلتے ہوئے اس کی پاس آئی ، اس کے گالوں پر بوسے دیے ۔ تو وہ بولا ۔
” مما جان میں بھی بابا جان کی طرح والا یونیفارم پہنوں گا ۔ مجھے بھی بنوا کر دیں پلیز ۔“ ، حریم نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا اور اب اس کا خواب پورا کرنے والا اس کا اپنا خون تھا ۔
************
خود کو اس طرح قبول کریں جیسے آپ ہیں ۔ کیونکہ آپ جیسا اس دنیا میں کوئی اور نہیں ہے ۔ اور ایک اور بات خواب ضرور دیکھیں ۔۔۔۔ ان کو پورا نہیں کر پائے تو کسی اور کے ذریعے پورا کروایں (مسلط مت کروائیں ) بس اپنے خوابوں کو مرنے مت دیں ۔
************
ختم شد

Comments